ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی حکومت کی خارجہ پالیسی شخصیت پر مبنی اور بے سمت ہے: کانگریس

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی شخصیت پر مبنی اور بے سمت ہے: کانگریس

Mon, 19 Mar 2018 11:17:16    S.O. News Service

نئی دہلی 18 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر شخصیت پر مبنی خارجہ پالیسی پر عملدرآ مد کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ موجودہ حکومت بڑے ممالک کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو نہیں سنبھال پائی ہے اور اس سے خارجہ پالیسی بے سمت ہو چکی ہے۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت پاکستان، چین اور دوسری چیلنجوں سے نمٹنے میں بالکل ہی ناکام رہی ہے۔پارٹی کے 84 ویں عمومی کانفرنس میں خارجہ پالیسی پر پیش کردہ تحریک میں پنڈت جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور نرسمہا راؤ کے وقت کی خارجہ پالیسی کی تعریف کے ساتھ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی گئی ۔سابق مرکزی وزیر آنند شرما کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی ہمیشہ مضبوط قومی اتحادکے ساتھ چلتی رہی ہے، بدقسمتی کی بات ہے کہ بی جے پی حکومت نے اسے متاثر کر دیا اور غلط مشورہ پر مبنی اس اقدامات نے قومی اتحاد کو تحلیل بھی کیا ہے۔ وا ضح ہو کہ اس پیشکش کو متفقہ طور پر منظوربھی کیا گیا۔ کانگریس نے الزام لگایاکہ حکومت بڑے ممالک کے ساتھ تعلقات کو صحیح طریقے سے نہیں سنبھال پائی ہے، اس کی خارجہ پالیسی کو لے کر الجھن ہے اور اس میں نظریہ اورمثبت سمت کا فقدان ہے۔اپوزیشن پارٹی نے کہاکہ وزیر اعظم کی طرف سے اس کے پیشرو وزرائے اعظم کو نظر انداز کرنے کارجحان اور آزادی کے بعد ہندوستان کی کامیابیوں کو جھٹلانے کے نظریہ نے بیرون ملک بھارت کی ساکھ پر شبہات پیدا کئے ہیں ۔اس نے کہاکہ بین الاقوامی تعلقات کو لے کر دنیا آج وسیع خدشات کے دور سے گزر رہا ہے ۔یہ دور غیر یقینی صورتحال سے بھرا ہوا ہے ا ور اس میں غیر متوقع تبدیلی آنے والے ہیں۔ اس سے ہماری خارجہ پالیسی کے سامنے پیچیدہ چیلنجز ہوگئے ہیں۔پارٹی نے کہاکہ یہ باعث تشویش ہے کہ بھارت اس برصغیر کے پڑوس میں بڑے چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ آزاد بھارت میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ ملک آپ کے پڑوس میں ہی اتنا کمزور ہو جائے۔ ایشیا اور پوری دنیا میں بامعنی کردار ادا کرنے کی بھارت کی عزائم پر اثر پڑا ہے۔ ہم نے اپنے پڑوس میں خلیخ پیدا کی ہے جس میں دوسری طاقتوں خاص طور پر چین کو تجاوز کرنے کا موقع مل گیا۔ اپوزیشن پارٹی نے کہاکہ یہ بتانا ضروری ہے کہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دور میں بین الاقوامی تعلقات میں بھارت پاکستان کے کشیدگی کو کامیابی سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ ایک سنگین تشویش ہے کہ اب بین الاقوامی فورم پر بھارت اور پاکستان کا ذکر ایک ساتھ ہونے لگا ہے جو تشویش ہے۔ تجویز پیش کرتے ہوئے آنند شرما نے کہا کہ خارجہ پالیسی واقعہ کو معمولی نہ سمجھتے ہوئے اس کو سنجیدگی کی نظر سے دیکھنا لا زمی ہے ۔ چین کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں کانگریس نے کہاکہ بھارت اور چین کے درمیان ایک پیچیدہ اور بہت احتیاط برتے جانا والا تعلق قائم ہے، کیونکہ چین ایک بڑا پڑوسی ملک ہے اور ایک اہم تجارتی ساتھی بھی ہے۔ ایک بڑی طاقت کے طور پر چین کا تیزی سے ابھرنا بھارت کے لئے ایک انتہائی اہم حقیقت ہے۔ انہو ں نے کہا کہ چین کے تئیں ہمارے رویہ میں سنجیدگی آنی چاہیے اور ہماری کوشش دونوں ممالک کے درمیان موجود تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی ہونی چاہیے ۔ 


Share: